Bait Bazi

ہنسی ہنسی میں اُڑادی ہیں تلخیاں کتنی
اِنہیں شمار جو کرتا تو مر گیا ہوتا​
 
یہ مرِی آنکھ پہ تہمت تھی مِرے ہوتے ہوئے
تیرے چہرے پہ کوئی اور توجہ دیتا​
 
تم بھی روئے تھے کبھی میری زبوں حالی پر
یہ خیال آج بھی ہر درد مٹا دیتا ہے​
 
باتوں کے ہر جواب میں بس مختصر سی ، ہاں
لگتا ہے میری ذات سے ، اکتا گیا ہے وہ​
 
بھیگے رستوں پہ تِرے ساتھ ٹہلنا تھا مجھے
ایسے موسم میں بھلا چھوڑ کے جاتا ہے کوئی؟
 
تم نے دیکھے ہیں کبھی درد کو سہتے ہوئے لوگ
بھیگی آنکھوں سے سب اچھا ہے کہتے ہوئے لوگ
 
گھاؤ تلوار کا جیسا بھی ہو بھر جاتا ہے
دل میں اُترے ہوئے فقرے نہیں نکلا کرتے​
 
اِک شخص لگے دل میں کسی تیر سا آ کے
ہم پہلی محبت سے مکر جائیں تو کیا ہو؟​
 
ہم سے اِک بار بھی جیتا ہے نہ جیتے گا کوئی
وہ تو ہم جان کے کھا لیتے ہیں ماتیں اکثر
اُن سے پوچھو کبھی چہرے بھی پڑھے ہیں تم نے
جو کتابوں کی کیا کرتے ہیں باتیں اکثر​
 
قدیم رستوں کے زرد پتے بھی خوش کلامی کے منتظر ہیں
کہ آتے جاتے تم اِن درختوں سے بات کرتے تو سبز ہوتے​
 
وحشت کے اِس نگر میں وہ قوسِ قزح سے لوگ
جانے کہاں سے آئے تھے، ناجانے کہاں گئے​
 
Hum ke deikhein kabhi daalan, kabhi sookha chaman
us pe ye dheemi si tamanna ke pukarey jaein
 
ٹال دیتا ہوں بہانے سے سبھی لوگوں کو
مجھ کو آیا نہ تیرے بعد کسی کا ہونا
 
ایک ویرانہ جہاں عُمر گزاری میں نے
تیری تصویر لگا دی ہے تو گھر لگتا ہے​
 
اپنی مٹھی میں چھپا کر کسی جگنو کی طرح
ھم تیرے نام کو چپکے سے پڑھا کرتے ہیں​
 
Back
Top