Bait Bazi



ہم وہ بے کار جو بازار سے بھی مفت ملیں
تو وہ نقصان جو پورا ہی نہیں ہو سکتا
 
اِک لفظ میں بھٹکا ہوا شاعر ہے کہ میں ہوں
اِک غیب سے آیا ہوا مصرعہ ہے کہ تم ہوں​
 

اُس کو احساس ندامت ہے تو پھر لوٹ آئے
شاید اِس بار بھی ہم اُس سے رعایت کر دیں

 

رات ساری کِسی ٹوٹی ہوئی کشتی میں کٹی
آنکھ بستر پہ کُھلی، خواب میں دریا دیکھا
 
کتنے غم ہیں جو سرِشام سُلگ اُٹھتے ہیں
چارہ گر تُو نے یہ کِس دُکھ کی دوا بھیجی ہے
 
تُو جو بھی بول مگر ہمکلام رہ مُجھ سے
تُو جانتا ہے مُجھے چُپ سُنائی دیتی ہے​
 

بات کہنے کے سو طریقے ہیں
کچھ نہ کہنا بھی اِک طریقہ ہے

 
Dil bhi pagal hai ke us shaḳhs se vabasta hai
jo kisi aur ka hone de na apna rakkhe
 


جنت کے اشتہار میں عورت بشکلِ حُور
کتنا ہے آشنا خدا آدم مزاج سے


واعِظ نے پھِر جواب میں حُوروں کی بات کی
روٹی کے اِک سوال کو لے کر کھڑا تھا مَیں​
 

گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں
جب بھی آتا ہے مِرا نام تِرے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ مِرے نام سے جل جاتے ہی
ں
 

اِس زندگی کے حُسن کی تابندگی نہ پُوچھ
جو حادثوں کی دُھوپ میں تپ کر نِکھر گئ

 

ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی
دیکھ بھی لوں تو مُسلسل نہیں دیکھی جاتی
ایسا کچھ ہے بھی نہیں جس سے تجھے بہلاؤں
یہ اُداسی بھی مُسلسل نہیں دیکھی جاتی
 

اُدھر وہ آخری گاڑی نِکلنے والی ہے
کِسی نے آخری چائے سے باندھ رکھا ہے
 
اکثر اوقات بھرے شہر کے سناٹے میں
اِس قدر زور سے ہنستا ہوں کہ ڈر جاتا ہوں
 

اُس کو مُدت سے کوئی قیس نہیں ملتا تھا
میری دہلیز پہ صحرا کو ضرورت ٖلائی

 

دِل سے گُزر رہا ہے کوئی ماتمی جلوس
اور اُس کے راستے کو کُھلا کر رہے ہیں ہم
پلکیں جھپک جھپک کے اُڑاتے ہیں نیند کو
سوئے ہوؤں کا قرض ادا کر رہے ہیں ہم

 
Back
Top