Bait Bazi

رختِ سفر تو باندھ کے رکھا ہوا ہے پر
کیسے چلوں کہ ساتھ کوئی ہمسفر نہیں​
 
سڑکوں پہ رات کاٹ لی، گھر تو نہیں گئے
تیرے بغیر دیکھ لے مر تو نہیں گئے
یہ کیا تمہارے چہرے کی رنگت بدل گئی
!خوش باش ہم کو دیکھ کر ڈر تو نہیں گئے​
 
لفظ مُردہ ہیں ، لُغت کوئی اُٹھا کر دیکھو
صِرف جذبات ہی لفظوں کو اثر دیتے ہیں​
 
راہ تکتے ہُوئے دیکھوں جو کسی تنہا کو
جانے کیوں آس دِلاتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں​
 

کب دیکھئے تیار ہو ، ہم خُونِ جگر سے
اِک شوخ کی تصویر بنانے میں لگے ہیں​
 
کہیں مِلے کوئی اپنا تو پُھوٹ کر رو لُوں
کئی دِنوں سے بہت مُسکرا رہا ہُوں میں
 
عُمرِ مصروف کوئی لمحۂ فرصت ہو عطا
میں کبھی خود کو میسر نہیں ہونے پاتا
آئے دن آتش و آہن سے گزرتا ہے مگر
دل وہ کافر ہے کہ پتھر نہیں ہونے پاتا
 
نظر سے دور ہو کر بھی یہ تیرا روبرو رہنا
کسی کے پاس رہنے کا سلیقہ ہو تو ایسا ہو​
 
جو لوگ اپنی جبیں پر شکن نہ لاتے تھے
وہ رو رہے ہیں تو پھر سانحہ بڑا ہوگا
کوئی بھی رنج ہو ، میں رکھ کے بھول جاتا ہوں
تمہارا غم بھی کسی کونے میں پڑا ہو گا​
 
دھونے سے بھی جا تی نہیں اُس ہاتھ کی خوشبو
ہم ہاتھ چُھڑا کر بھی چُھڑانے میں لگے ہیں​
 
عُمرِ مصروف کوئی لمحۂ فرصت ہو عطا
میں کبھی خود کو میسر نہیں ہونے پاتا
آئے دن آتش و آہن سے گزرتا ہے مگر
دل وہ کافر ہے کہ پتھر نہیں ہونے پاتا
یہی تو مسئلہ ہے۔
 
وہ جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں
دیکھنے والو کبھی اُن کا جگر تو دیکھو​
 
زر خریدوں سے بھی ایسا نہیں کرتا کوئی
زندگی تُو تو ہمیں مانگ کے لائی تھی یہاں​
 
ظرف اُس کا میری اُمید سے بڑھ کر نِکلا
میں نے دریا جسے سمجھا وہ سمندر نِکلا​

:giggle: آپ ساحل ہو، ظاہر ہے سمندروں والے شعر آپ نہیں پوسٹ کرو گے تو کون کرے گا
 
:giggle: آپ ساحل ہو، ظاہر ہے سمندروں والے شعر آپ نہیں پوسٹ کرو گے تو کون کرے گا

آپ روشنی ہو، ظاہر ہے آپ کو نظر نہیں آئے گا تو اور کس کو آئے گا 😃
 
تسکین دل کے واسطے ماضی کرید کر
ہم پھـر نـکال لائے ہیں تـصـویر آپ کی​
 
مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں
سائے بھی راہ کی دیوار ہُوا کرتے ہیں
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو، کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خودار ہُوا کرتے ہیں​
 
Back
Top