Bait Bazi

پھر اُس کے بعد وہ روٹھا رہا، نہیں مانا
بس ایک بار ہی دل کا کہا نہیں مانا
میں صبر و ضبط کی اچھی مثال ہوں، میں نے
بُروں کی بات کا اکثر بُرا نہیں مانا​
 
ہوتے کہیں ہو اور بتاتے کہیں ہو تم
اِس درجہ اِحتیاط سے تھکتے نہیں ہو تم؟
جیسا دکھائی دینے کی کرتے ہو کوششیں
میں خوب جانتا ہوں کہ ایسے نہیں ہو تم​
 
کچھ سایے سے ہر لِحظہ کِسی سِمت رواں ہیں
اِس شہر میں ورنہ، نہ مکیں ہیں نہ مکاں ہیں
ہم خود سے جُدا ہو کے تجھے ڈھونڈنے نکلے
بکھرے ہیں اب ایسے کہ یہاں ہیں نہ وہاں ہیں​
 
لوگوں نے اُسے میری محبت سمجھ لیا
محسن وہ مجھ کو جان سے پیارا تھا! اور بس
 
تم مرِے اِرادوں کے ڈوبتے ستاروں کو
یاس کی خلاؤں میں راستہ دکھاتے ہو
 
بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلاب
کہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے
فراز عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی
یہ کس نے فتنہ ہجر و وصال رکھا ہے​
 
وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرا
میں اُس کے تاج کی قیمت لگا کے لوٹ آیا​
 
جس کی پوشاک میں الماس جڑے ہو احمد
کیسے مانوں کہ وہ فنکار بھی ہو سکتا ہے
 
یہ پھول یہ خوشبو یہ نگر ذہن میں رکھنا
گر ساتھ چلے ہو تو سفر ذہن میں رکھنا
کب رنگ بدلتا ہے ، بھروسا نہیں اُس کا
فی الحال وہ مُخلص ہے مگر ذہن میں رکھنا
 
زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا
دُنیا سے خامشی سے گُزر جائیں ہم تو کیا​
 

اِک دولتِ یقیں تھی جو اب پاس بھی نہیں
لیکن یہاں کِسی کو یہ اِحساس بھی نہیں
برسوں سے ہم کھڑے ہیں اُسی آئینے کے پاس
وہ آئینہ جو چہرے کا عکاس بھی نہیں​

1745108926328.webp
 
اُس کو بھر پور توجہ کی طلب ہے، اور میں
وقت بیچوں تو میرے گھر کا دھواں چلتا ہے
مانتا ہوں کہ محبت بھی ہے دولت لیکن
ہم غریبوں سے یہ سکہ بھی کہاں چلتا ہے​
 
مرِی بستی سے پرے بھی مِرے دشمن ہوں گے
پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا؟
آشنا ہاتھ ہی اکثر مِری جانب لپکے
میرے سینے میں سدا اپنا ہی خنجر اُترا
 

So gai aankh to jagay teri qurbat ke nishan
bujh gai piyaas to rastey mein samandar aaya
 
میں اپنے درد کہاں بانٹتے پھرؤں مُحسن
میں اپنی چیزیں فقط اپنے پاس رکھتا ہوں
 
ہم سمجھتے تھے فقط ایک ہی پاگل ہے فراظ
ایسے ایسے ہیں محبت میں گِرفتار کہ بس​
 
Back
Top