یہی تو مسئلہ ہے۔عُمرِ مصروف کوئی لمحۂ فرصت ہو عطا
میں کبھی خود کو میسر نہیں ہونے پاتا
آئے دن آتش و آہن سے گزرتا ہے مگر
دل وہ کافر ہے کہ پتھر نہیں ہونے پاتا
ظرف اُس کا میری اُمید سے بڑھ کر نِکلا
میں نے دریا جسے سمجھا وہ سمندر نِکلا
آپ ساحل ہو، ظاہر ہے سمندروں والے شعر آپ نہیں پوسٹ کرو گے تو کون کرے گا