Bait Bazi

میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں
دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مُجھے​
 
دستکیں دیتی ہوں ناکام پلٹ آتی ہوں
ایک در ہے جہاں دیوار سی خاموشی ہے​
 
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے​
 


یہ بھی اِک رنگ ہے شاید میری محرومی کا
کوئی ہنس دے تو مُحبت کا گُماں ہوتا ہے

 
داد بنتی ہے بڑا کام کیا ہے ہم نے
دستبردار ہوئے مُڑ کے نہ دیکھا اس کو​
 
بہت بے کیف لمحے ہیں، عجب بوجھل طبعیت ہے
نہ غم سے دل بہلتا ہے، نہ خوشیاں راس آتی ہیں​
 
چند کمزور چراغوں سے عقیدت ہے مجھے
مجھ سے چڑھتے ہوئے سورج نہیں پوجے جاتے​
 
یہ جو پتھر کے ہوچکے ہیں
یہ اپنے حصے کا رو چکے ہیں​
 

طاقِ نسیاں سے اُتر، یاد کے دالان میں آ
بُھولے بِسرے ہوئے شخص، میرے دھیان میں آ
 
Back
Top