Bait Bazi


kissi ki haar ka dar tha so Hum aghaaz say haaray
hamesha jeetnay walay ajub andaaz say haaray
 
صحرا میں ایک عُمر گزاری تو یہ کُھلا
دریا تمھاری آنکھ سے کتنا قریب ہے​
 
یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے
یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایا ہے کہ تم ہو​
 
تم پوچھتے ہی نہیں پریشانی کی وجہ
کچھ اس وجہ سے بھی پریشان ہوں میں​
 
اُس کی عادت ہے میرے بال بگاڑے رکھنا
اُس کی کوشش ہے کسی اور کو اچھا نہ لگوں​
 
تجھ کو دیکھوں تو ہر ایک چیز پہ پیار آتا ہے
اس قدر عشق سنبھالا نہیں جاتا مجھ سے​
 
تو یہیں ہار گیا ہے میرے بزدل دشمن
مجھ سے تنہا کے مقابل تیرا لشکر نکلا​
 
ایک ایسے غم شناس کی حسرت رہی مجھے
جو میرے ساتھ روئے، مجھے حوصلہ نہ دے​
 
یہ جو ہم لوگ ہیں، احساس میں جلتے ہوئے لوگ
ہم زمیں زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے​
 
خدائے واحد و برتر تری ہر مصلحت حق ہے
!مگر جو دل بکھیرے ہیں انہیں کب ٹھیک کرنا ہے​
 
لوگ خوش مزاج کہتے ہیں مجھے
میں نے خود کو اکثر اداس پایا ہے​
 
تری جستجو میں نکلے تو عجب سراب دیکھے
کبھی شب کو دن کہا ہے کبھی دن میں خواب دیکھے​
 
کوئی شــــانہ درکار ہے ہے ســـر رکھنے کو
تیرا رونا تــــیرے آگے تو نہـــیں رو سکتے​
 
سوچتا رہتا ہوں جانے یہ کدھر جاتے ہیں
یہ پرندے جو مِرے سر سے گزر جاتے ہیں
اس سے پہلے کہ کہانی میں اتارے جائیں
ایسا کرتے ہیں محبت سے مُکر جاتے ہیں​
 
اس قدر قحطِ مُحبت ہے کہ دنیا والے
ایک مٹھی بھی اگر دیں تو گزارہ کر لوں​
 
Back
Top