Bait Bazi

تم پھر نہ آ سکو گے بتانا تو تھا مجھے
تم دُور جا کے بس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا​
 
ہم تھے ٹھہرے ہوئے پانی پہ کسی چاند کا عکس
جس کو اچھے بھی لگے، اس نے بھی پتھر پھینکا
 
ربط کی بات اور ہے، ضبط کی بات اور ہے
یہ جو فشارِ خاک ہے، اِس میں کبھی گلاب تھے​
 
گھر کے آنگن میں لگا پیڑ کٹا ہے جب سے
ہم تری بات پرندوں کو سنانے سے گئے​
 
Sunte hein ishq naam ke guzre hein ik bu'zurg
hum log bhi faqeer usi sil'sile ke hein
 
ترک الفت کی اذیت بھی نز ع جیسی ہے
کتنا مشکل ہے محبت سے گريزا ں ہونا​
 
سیلاب کو نہ روکئیے رستہ بنائیے
کس نے کہا تھا گھر لبِ دریا بنائیے​
 
کلام کرتا تھا قوسِ قزح کے رنگوں میں
وہ اِک خیال تھا اور شاعری میں رہتا تھا​
 
غور سے دیکھتے رہنے کی سزا پائی ہے
تیری تصویر ان آنکھوں میں اتر آئی ہے​
 
الجھیں گے کئی بار ابھی لفظ سے مفہوم
سادہ ہے بہت وہ نہ میں آسان بہت ہوں​
 
میں کہ بیٹھا ہنس رہا تھا اک پرانی بات پر
پھر نجانے آنکھ میں آنسو کہاں سے آگئے​
 
تیری شرطوں پہ ہی کرنا ہے اگر تجھ کو قبول
یہ سہولت تو مجھے سارا جہاں دیتا ہے
 
گُونجیں گے تیـرے ذہن کے گُنبد میـں رات دن
جِـس کو تُو نہ بُھلا سکے وہ گُـفتـگُو ہُوں میـں
 
Back
Top