تجھ کو احساس ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ
!آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو کہ سیماب طبیعت ہے تجھے کیا معلوم
!موسمِ ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے
وہ گِنواتے ہیں مِرے عیب سَدا لوگوں کو
میں یہ کہتا ہوں کہ سرکار، دِکھائے جائیں
پارساؤں سے نَہیں کُچھ بھی تو لینا دینا
ہَم کو تو ہَم جیسے گُنہگار دِکھائے جائیں