Bait Bazi

اک فقط تجھ سے تغافل نہیں برتا میں نے
ورنہ ہر ذات سے مفرور ہوئے پھرتے ہیں​
 
میں پُرسکوں ہوں مضافات میں بسیرے پر
کہ شــہر بھـــر کا تماشا مــــری نگاہ میں ہے​
 
اُس نے پوچھا بھی تو ہجرت کا طریقہ پوچھا
اُس نے چاہی بھی تو جانے کی اجازت چاہی​
 
جھوٹ کہتے ہیں کہ آواز لگا سکتا ہے
ڈوبنے والا فقط ہاتھ ہلا سکتا ہے
اور پھر چھوڑ گیا وہ جو کہا کرتا تھا
کون بدبخت تجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے​
 
اس دُکھ بھری حیات کی محرومیاں نہ پوچھ
کیا کیا تجھے بتائیں کہ کیا کیا نہ ہو سکا​
 
ہجر کا تارا ڈوب چلا ہے ڈھلنے لگی ہے رات وصی
قطرہ قطرہ برس رہی ہے اشکوں کی برسات وصی​
 
جس طرح ٹوٹ کے گرتی ہے زمیں پر بارش
اس طرح خود کو تیری زات پہ مرتے دیکھا​
 
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے
تب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے​
 
کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں
تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو​
 
اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا
سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا
 
دُور تک ساتھ دیا کرتی ہیں آنکھیں اُن کا
!تُو نے دیکھے ہیں کبھی گاؤں سے جاتے ہوئے لوگ
 
ہم گھوم چکے بستی بن میں
اک آس کی پھانس لیے من میں
کوئی ساجن ہو، کوئی پیارا ہو
کوئی دیپک ہو، کوئی تارا ہو
جب جیون رات اندھیری ہو
!اک بار کہو تم میری ہو​
 
ہم نے خوابوں کی قباء دشت میں جلتی دیکھی
!تم نے دیکھے ہیں کبھی درد میں لتھڑے ہوئے خواب​
 
ڈھل گئی عمر سبھی شوق ہمارے لے کر
اب تم آئے ہو مری جان ستارے لے کر
تم بھی چل دو گے لیے ساتھ ہماری خوشیاں
اور جیے جائیں گے ہم روگ تمہارے لے کر​
 
اُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر​
 
تم کو پتہ ہے تم سے بچھڑنے پہ کیا ہوا؟
ہم کو اکیلے چھوڑ کے ہمت چلی گئی⁦
کل ہم تلاش میں تھے کوئی آئینہ ملے
اب آئینہ ملا ہے تو صورت چلی گئی⁦​
 
Takti rehti hoon mein tasveer bana kar us ki
deir tak haath nahi dhoti mein rangon waley
 
کم مائیگی نہ پوچھ مری بزم غیر میں
اُٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح
 
Back
Top