Bait Bazi

تمہاری یاد بھی محسن کِسی مُفلس کی پونجی ہے
جِسے ہم ساتھ رکھتے ہیں جِیسے ہم روز گِنتے ہیں​
 
پورے چاند کی اُجلی راتیں اچھی لگتی ہیں
تم سے مِلتی جُلتی آنکھیں اچھی لگتی ہیں​
 
کبھی اُن کا نام لینا کبھی اُن کی بات کرنا
مِرا ذوق اُن کی چاہت مِرا شوق اُن پہ مرنا
وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مِری جُنوں مِزاجی
نہ کِسی کی بات سُننا نہ کِسی سے بات کرنا​
 
وہ تِری گلی کے تیور وہ نظر نظر پہ پہرے
وہ مِرا کِسی بہانے تُجھے دیکھتے گُزرنا
کہاں میرے دِل کی حسرت، کہاں میری نارسائی
کہاں تیرے گیسوؤں کا تِرے دوش پر بِکھرنا​
 
زندگی پُھول ہے، خوشبو ہے، مگر یاد رہے
زندگی، گردشِ حالات بھی ہو سکتی ہے

چال چلتے ہُوئے، شطرنج کی بازی کے اُصول
بُھول جاؤ گے، تو پھر مات بھی ہوسکتی ہے

ایک تو چھت کے بِنا گھر ہے ہمارا مُحسؔن
اُس پہ یہ خوف کہ برسات بھی ہو سکتی ہے​
 
تمہاری یاد مرے دل میں یوں اُترتی ہے
کہ جیسے چاند سے آتی ہے روشنی مدھم​
 


چلو ترکِ تعلق میں یہ سُکھ تو پایا ہم نے
اب تارے نہیں گِنتے، اب جاگا نہیں کرتے
خُشک پتوں کی آواز پہ دروازے کی طرف
ننگے پاؤں میری جاں اب بھاگا نہیں کرتے​
 
تیرا دیدار ہی آنکھوں کی تلاوت ٹھہرا
یہ میرا عشق مقدس ہے عبادت جیسا​
 
ﺟﻨﮓ ﭨﮭﮩﺮﯼ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﺮﺩﺵِ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ
ﻣﯿﮟ ﻗﻔﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽﺍُﻟﺠﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺯﻧﺠﯿﺮﮐﮯﺳﺎﺗﮫ
ﺍﮔﺮﺍِﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿر ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮨﮯﺗﻮ ﭘﮭﺮ
ﮨﻢ ﺗﻮ ﻣﺮﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯﺍِﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ
 
اگر بے عیب چاہو تو فرشتوں سے نبھا لینا
میں آدم کی نشانی ہوں خطا میری وراثت ہے​
 
میری تنہائی نے پیدا کیے سائے گھر میں
کوئی دیوار، کوئی در سے نمودار ہُوا​
 
اتنا قریب آؤ کہ جی بهر کے دیکھ لیں
شاید کہ پھر ملو تو یہ ذوق نظر نہ ہو​
 
جو ہنس کر جھیل گئے کڑی دھوپ کے تیور
تاروں کی خنک چھاؤں میں وہی لوگ جلے ہیں​
 
کوئی گرداب نہیں آئے گا دوران سفر
اور ستم یہ ہے کنارے بھی نہیں آئیں گے
ایسے چھوڑیں گے ترا شہر کہ ہم اس کی طرف
گردش وقت کے مارے بھی نہیں آئیں گے!!!
 
اب یہ سمجھے کہ اندھیرا بھی ضروری شے ہے
بجھ گئیں آنکھیں اجالوں کی فراوانی سے
 
رائیگانی کاوہ عالم ہے کہ یوں لگتا ہے
میرےحصےمیں خسارے بھی نہیں آئیں گے​
 
کوئی تعویز ایسا دو کہ میں چالاک ہو جاؤں
بہت نقصان دیتی ہے مجھے یہ سادگی میری​
 
ہم جیسے خار نما لوگ کوچ کر گئے تو
یہ پھول روئیں گے ہاتھوں میں تتلیاں لے کر​
 
Back
Top