کبھی اُن کا نام لینا کبھی اُن کی بات کرنا
مِرا ذوق اُن کی چاہت مِرا شوق اُن پہ مرنا
وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مِری جُنوں مِزاجی
نہ کِسی کی بات سُننا نہ کِسی سے بات کرنا
وہ تِری گلی کے تیور وہ نظر نظر پہ پہرے
وہ مِرا کِسی بہانے تُجھے دیکھتے گُزرنا
کہاں میرے دِل کی حسرت، کہاں میری نارسائی
کہاں تیرے گیسوؤں کا تِرے دوش پر بِکھرنا
چلو ترکِ تعلق میں یہ سُکھ تو پایا ہم نے
اب تارے نہیں گِنتے، اب جاگا نہیں کرتے
خُشک پتوں کی آواز پہ دروازے کی طرف
ننگے پاؤں میری جاں اب بھاگا نہیں کرتے