Bait Bazi

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن اِس ترکِ محبت کا بھروسا بھی نہیں​
 
ہم کو روزی کھینچ لائی، شہر کے صحراؤں میں
پھول، تتلی، ایک لڑکی، رہ گئے سب گاؤں میں​
 
آنکھوں نے آنسووں کا تبرک لُٹا دیا
دل کے مزار پر تِری یادوں کا عُرس ہے​
 
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
کہ ایک عُمر چلے اور گھر نہیں آیا
کریں تو کِس سے کریں نا رسائیوں کا گِلہ
سفر تمام ہُوا ہم سفر نہیں آیا​
 
روح میں شامل ہے فقط نس نس میں نہیں
وہ اک شخص جو میری دسترس میں نہیں
 
یہ بھی ممکن ہے ہمیں عشق امر کر دیتا
یہ بھی ممکن ہے کہ بدنام اکٹھے ہوتے
داستانوں میں سہی، ذکِر ہمارا ہوتا
ایک کاغذ پہ ہی، دو نام اکٹھے ہوتے
 
میرے درویش تیرے لمس کی ہلکی سی مہک
مرحلہ وار کئے جاتی ہے تبدیل مجھے​
 
میرا خیال تھا وہ نبھاۓ گا عمر بھر
مجھ کو میرے خیال پر شاباش دیجیئے​
 
یہ ایسی موت ہے جس کا کہیں چرچا نہیں ہوتا
بہت حساس ہونا بھی بہت اچھا نہیں ہوتا​
 
اِس سے پہلے تو دعاؤں پہ یقین تھا کم کم
تُو نے چھوڑا تو مناجات کا مطلب سمجھے
تجھ کو بھی چھوڑ کر جاۓ تیرا اپنا کوئی
تو بھی اِک روز مکافات کا مطلب سمجھے​
 
میرے اندر ایک دستک سی کہیں ہوتی رہی
زندگی اوڑھے ہوئے میں بے خبر سوتی رہی
 
تم مجھے چھوڑ گئے تھے وہ تمھیں چھوڑ گیا
اِسے کہتے ہیں مری جان مکافات کا دُکھ
لذت ِ ہجر کے ثمرات نہ گنوا مجھ کو
میں نے جھیلا ہوا ہے یار ملاقات کا دُکھ
 
ترک الفت کی اذیت بھی ہے دوزخ جیسی
کتنا مشکل ہے محبت سے گریزاں ہونا​
 
دلِ تباہ تیرے غم کو ٹالنے کے لیے
سُنا رہا ہے فسانے اِدھر اُدھر کے مجھے​
 
Back
Top