Bait Bazi

زاہد تِری بہشت میں حوریں سہی مگر
ہم جس کو چاہتے ہیں وہ زہرہ جبیں کہاں؟​
 
!کیسے ممکن ہے تمنا کبھی مہنگی نہ پڑے
!شوق کا مول ہو اور جاں سے زیادہ نہ لگے​
 
میں عمیق تھا کہ پلا ہوا تھا سکوت میں
یہ جو لوگ محو کلام تھے مجھے کھا گئے​
 
گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
دل پر اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح​
 
کاش آ جائے وہ مجھے جاں سے گزرتے دیکھے
اس کی خواہش تھی کبھی مجھ کو بکھرتے دیکھے
وہ سلیقے سے ہوئے ہم سے گریزاں ورنہ
لوگ تو صاف محبت میں مُکرتے دیکھے​
 
ہوتے رہے ہر موڑ پہ دونِیم دل و جاں
میں پُورا کبھی لوٹ کے گھر تک نہیں پہنچا​
 
دیکھی ہیں رات ڈھونڈ کے تصویریں اس کی کچھ
زخموں سے چھیڑ چھاڑ کی عادت نہیں گئی
 
جب بھی سوچا کہ شبِ ہجر نہ ہوگی روشن
مُجھ کو سمجھانے تری یاد کے جگنُو آئے​
 

ﺿﺒﻂ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺍﭼﮭﺎ لیکن
ﺭﻭﺡ ﮔﮭﺎﺋﻞ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﻧﮧ ﮐﺮﺍﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ​
 
اے ترک تعلق پہ تُلے شخص خبردار
تیری تو کسی اور سے بنتی بھی نہیں ہے
مت بانٹ محبت کہ ترے پاس تو جتنی
مجھ ایک کو درکار ہے اُتنی بھی نہیں ہے
 
میں نے جب یاد کیا، یاد وہ آیا محسن
اِس سے زیادہ اُسے پابندِ وفا کیا کرن​
 
دل بھی بُجھا ہو شام کی پرچھائیاں بھی ہوں
مر جائیے جو ایسے میں تنہائیاں بھی ہوں​
 
گھر کے حالات کبھی وقت کبھی بادِ نصیب
تم کو اسباب بچھڑنے کے بتائیں کیا کیا
 
میں بھی اکـــــ شخص پر اکــــ شرط لگا بیٹھا تھا
تُم بھی اکـــــ روز اِسی کھیل میں ھارو گے مُجھے
عیــــــد کے دن کی طرح تُم نے مُجھے ضـــائع کیا
میں سمجھتا تھا ، محبتــــــ سے گزارو گے مُجھے​
 
Back
Top