Bait Bazi

کوئی پل ہو تیرے ساتھ کا میری عمر بھر کو سمیٹ لے
میں فنا بقا کے سبھی سفر اسی ایک پل میں گزار لوں​
 
نیندیں نہیں نصیب میں لیکن وہ میرا خواب
مجھ کو دکھائی دیتا ہے، دیکھے بغیر بھی​
 
باب قفس کھلا بھی تو کچھ دیر کے لیے
جو قید میں نہیں تھے رہا کر دیے گئے
ہم کو ہماری نیند بھی پوری نہیں ملی
لوگوں کو ان کے خواب جگا کر دیے گئے​
 
عمر رواں کو روکیے، آواز دیجیے
ہم پیچھے رہ گئے ہیں کئی حسرتوں کے ساتھ​
 
جی میں آتا ہے کہ لب سی لیں ہمیشہ کے لیے
سانس لیتے ہیں تو ہر سِمت دھواں ہوتا ہے
بھول جانا اُسے مشکل تو نہیں ہے لیکن
کام آساں بھی مگر ہم سے کہاں ہوتا ہے
 
خُشک دريا کو ديکھا ، تو مُجھے ياد آيا
ميں بھی روئی نہيں کئی دِن سے
 
مجھ کو نفرت سے نہیں پیار سے مصلوب کرو
میں بھی شامل ہوں محبت کے گنہ گاروں میں.
 
کلام کرتا تھا قوسِ قزح کے رنگوں میں
وہ اِک خیال تھا اور شاعری میں رہتا تھا​
 
خطائیں عمرِ رفتہ کی ، سزائیں عمرِ حاضر کو
عجب دستورِ الفت ہے، کہاں کرنی کہاں بھرنی​
 
جانے کس موڑ پہ لے جا کے اکیلا کر دیں
مجھ کو اب دوست بناتے ہوئے ڈر لگتا ہے​
 
تم تو سردی کی حسیں دھوپ کا چہرہ ہو جسے
دیکھتے رہتے ہیں دیوار سے جاتے ہوئے ہم​
 
چھوڑ جانے پہ پرندوں کی مُذمت کی ہو
تُم نے دیکھا ہے کبھی پیڑ نے، ہجرت کی ہو
اب تو اتنا بھی نہیں یاد کہ کب آخری بار
دل نے کچھ ٹوٹ کے چاہا، کوئی حسرت کی ہو​
 
ارے آپ ہنسنے لگ گئے مجھ پہ ؟؟
مجھے گمان تھا آپ سمجھیں گے​
 
ایک بھی موج اگر میری حمایت کرتی
میں نے اُس پار کئی لوگ اتارے ہوتے​
 
ہر دھڑکن سے پیار کا امرت ہر اک لفظ میں اُترا تھا
ساری عُمر جو لکھا دل نے وہی وظیفہ بھول گیا​
 
اک عمر اُجالوں کے تعاقب میں گنوا کے
ہم شام کے منظر میں سحر ڈھونڈ رہے ہیں
 
ہم سماعت کو ہتھیلی پہ لیے پھرتے ہیں
تیری آواز میں کوئی تو پکارے ہم کو
تُو ہے وہ قیمتی نقصان جو راس آیا ہے
اچھے لگتے ہیں تیرے بعد خسارے ہم کو​
 
Back
Top