Bait Bazi

اُس نے کہنا تھا فقط عید مبارک مجھ کو
اور مِری عید نے تہوار میں ڈھل جانا تھا
 
یوں اکیلے میں اُسے عہدِوفا یاد آئے
جیسے بندے کو مُصیبت میں خُدا یاد آئے​
 

وہ جو ہر زاویے سے دل میں ہے
اُس کو پھر دیکھنے کی خواہش کیوں؟​
 
ہم جس کے منتظر تھے اُس شخص کے سوا
سارے جہاں نے عید مبارک کہا ہمیں​
 
مُقدر میں مِرے ساغر شِکست وریخت اتنی ہے
میں جس کو اپنا کہتا ہوں وہ تارہ ٹُوٹ جاتا ہے​

Gndb8uYWwAAHfIb
 
ادب کی حد میں ہوں میں بے ادب نہیں ہوتا
تمہارا تذکرہ ، اب روز و شب نہیں ہوتا
کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یونہی آنکھیں
اُداس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہوتا​
 
حشر ہے وحشتِ دل کی آوارگی
ہم سے پوچھو مُحبت کی دیوانگی
جو پتہ پوچھتے تھے کِسی کا کبھی
لاپتہ ہو گئے دیکھتے دیکھتے​
 
دل سے نکلی ہی نہیں شام جدائی والی
تم تو کہتے تھے برا وقت گزر جاتا ہے​
 

روز اُسے دیکھنے جاتا ہوں میں
رزق کی صورت وہ ملتا ہے مجھے​
 
موسم،خوشبو، باد صبا ،چاند،شفق اور تاروں میں
کون تمھارے جیسا ہے وقت ملا تو سوچیں گے​
 
ہم کو تو سدا ایسے ہی دریاؤں نے گھیرا
پانی بھی نہ تھا جن میں کنارہ بھی نہیں تھا
 
میں نے اپنوں کے رویوں سے یہ محسوس کیا
دل کے آنگن میں بھی دیوار اُٹھادی جائے​
 
اِک صدائے بے کراں ہے زندگی اور اُس کے بعد
!خامشی ہی خامشی ہی خامشی رہ جائے گی​
 
Back
Top